ہر سال اپریل کا مہینہ میرے والدِ مرحوم مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی برسی ہے جنہوں نے 21،اپریل 1980 میں لاہور میں انتقال کیا تھا.
میں اپنے تمام قارئین سے دست بستہ عرض کرؤں گا کہ وہ ایک سورئہ فاتحہ میرے والدِ مرحوم اور اپنے تمام مرحومین کے لیئے تلاوت کر کے انکی روح کو ایصال کر دیں. پروردگارِ موت و حیات ہم سب کے مرحومین کے گناہِ صغیرہ و کبیرہ معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے(آمین)
ماں اور باپ کا رشتہ دنیا کے تمام رشتوں سے افضل و اعلیٰ اور سب سے بڑھ کر بلا مفاد کا رشتہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ماں باپ ظاہری طور پر بچھڑ جانے کے باوجود بھی اپنی اولاد کی روح ،دل کی دھڑکن اور جسم کی نس نس میں رواں خون میں سمائے رہتے ہیں.
مجھے خوب خوب یاد ہے کہ میرے والد مرحوم نے اپنے پوری زندگی یا تو اپنی ریڈیو کی ملازمت کے ساتھ یا پھر اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ گزاری. ایک عالم فاضل شاعر،ادیب،ماہر لسانیات اور تاریخی براڈکاسٹر ہونے کے باوجود نمود و نمائش اُن میں نام کو نہ تھی اور تمام زندگی علم و ادب میں گزارنے کے باوجود زندگی کے آخری ایام تک وہ خود کو طالب علم کہا کرتے تھے اور کسی سے کوئی لفظ پوچھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے.
در اصل یہی پہچان ہے پڑھے لکھے اور صاحبِ علم انسان کی کہ وہ نخلِ ثمر بار کی طرح جھکا ہوا ہوتا ہے.
ان کی تمام زندگی یا تو کتابوں کے درمیان اور یاپھر اپنے گھر والوں کے درمیان گزری. زبان،بیان،الفاظ،تلفظ اور لہجے کے بارے میں انکے اصول،قواعد اور ضوابط اس قدر ثقہ ، مستند اور سخت تھے کہ اس دور میں شاید کوئی اس کا اندازہ بھی نہ کر پائے. اس بات کا اندازہ آپ صرف اس ایک امر سے کر سکتے ہیں کہ انہیں یہ بھی قبول نہیں تھا کہ کوئی انکایا انکے بچوں کا نام بھی غلط لے .
اس عہدِ فراموش میں ہم نے کیسی کیسی شخصیت کو فراموش نہیں کر دیا۔ یادش بخیر مجھے اس وقت اردو ادب کی ایک بہت قد آور شخصیت کی یاد آئی ہے جنہیں بہت حد تک خود اہلِ اردو ادب بھی شاید فراموش کر چکے ہیں.
جناب مختار صدیقی اردو غزل کا ایک باوقار نام جو لاہور ریڈیو پر ملازم تھے اور شاید بہت کم لوگوں کو یہ یاد ہو کہ ساٹھ کے عشرے کے اوائل میں جب پاکستان میں پہلا ٹیلی ویژن اسٹیشن لاہور ریڈیو کی عمارت کے احاطے میں ہی قائم ہوا تو جہاں اسوقت لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر آغا بشیر پی ٹی وی لاہور کے پہلے اسٹیشن مینجر مقرر ہوئے وہاں پہلے سکرپٹ ایڈیٹر مرحوم مختار صدیقی تھے.
مختار صدیقی 1917 میں پیدا ہوئے تھے اور 1972 میں انہوں نے وفات پائی تھی.
یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں میں پڑھنے اور سیکھنے کا رواج تھا اور اسی تناظر میںایک مرتبہ لاہور ریڈیو کا ایک پروڈیوسر کوئی ایک لفظ پوچھنے مختار صدیقی کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ’’ حیف ہے کہ تم یہاں میرے پاس پوچھنے آئے جب کہ خود تمہارے پاس وہاں اردو،فارسی اور عربی کی چلتی پھرتی ڈکشنری مصطفیٰ علی ھمٰدانی صورت میں موجود ہے‘‘
وہ میرے والدتو تھے ہی لیکن قدرت نے انہیں تاریخ کا ایک ایسا اعزاز دیا تھا جو انکی وفات کے بعد ایک سے زائد لوگوں نے اپنے نام لگوانے کی کیسی کیسی کوشش نہیں کی اور اس مقصد کے لیئے اس عہد کے درباری تاریخ نویسوں سے کالم لکھوائے،بیانات جاری کروائے حتیٰ کہ تاریخ کو مسخ کر کے کتابوں میں بھی لکھوایا لیکن قدرت کے فیصلے کچھ اور ہی ہوا کرتے ہیں.
13 اور14 ،اگست 1945 کی درمیانی رات کو لاہور ریڈیو اسٹیشن سے آزاد فضا میں گونجنے والی پہلی آواز مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی ہی تھی کہ جس نے عشروں سے آزادی کے منتظر لوگوں کو پیامِ آزادی سنایا. ہم جس طرح اپنی تاریخ کے کتنے ہی ابواب کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے ہیں اسی طرح تاریخ کا یہ باب بھی ہمارے حکمرانوں اور ریڈیو پاکستان کے اربابِ اختیار کی کم علمی اور بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے.
انشااللہ زندگی نے وفا کی تو بہت جلد نہایت مدلل اور مستند تاریخی حوالوں سے اس موضوع پر بھی لکھوں گا کہ ایک بیٹے،ایک محقق،ایک قلم کار اور سب سے بڑھ کر نشریات کے شعبے کے ایک کارکن کی حیثیت سے یہ میرا فرض بھی ہے اور حق بھی کہ تاریخ کے ان مستند حوالوں کو محفوظ کر دیا جائے.
یہ عجب ایک طرفہ تماشہ ہے کہ حکمران یا ملکی انتظامی ادارے یا نشریات و ثقافت کی وزارتیں تو ہر عہد میں ایسی تاریخ کو محفوظ کرنے کے کام میں ناکام رہی ہیں لیکن افسوس تو ریڈیو پاکستان کے اس ادارے یا محکمے پر ہے کہ جس کو تاریخ کا یہ اولیں اعزاز ملا اور وہ خود اس کی مستند تاریخ کو محفوظ نہیں رکھ سکے جس کی وجہ سے کتنے ہی جعلی لوگوں نے مصطفٰی علی ھمٰدانی مرحوم کے انتقال کے بعد اس اعزاز کو اپنے نام لگوانے کی کوشش کی .