صفدر مری رگوں میں لہو کربلا کا ہے
بیعت یزیدِ وقت کی کرنا محال ہے
صفدر ھمٰدانی شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق ،اُستاد،کالم نگاراور براڈکاسٹر لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے جس میں تاریخ ساز ماہرِ نشریات و لسانیات اور عربی،فارسی اور اردو کے شاعرانکے والد مصطفیٰ علی ھمٰدانی (جنہوں نے 13 اور 14 اگست 1947 کی درمیانی رات کو لاہور ریڈیو سے قیام پاکستان کا پہلا اعلان کیا تھا)کے علاوہ ماموں رضا ھمٰدانی،خالو فارغ بخاری بھی شامل ہیں.
انکی اہلیہ معروف براڈکاسٹر ماہ پارہ صفدر بھی شعر کہتی ہیں اور سُسر سید حسن عباس زیدی بھی چار شعری کتابوں کے مصنف ہیں.
صفدرھمٰدانی نے ایف سی کالج لاہور سے گریجوایشن کیا اور جامعہ پنجاب لاہور سے صحافت میں اعلیٰ تعلیم کے بعد1974 میں وہ ریڈیو پاکستان سے بطور پروگرام پروڈیوسر منسلک ہوگئے جہاں سے انہوں نے2000 میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور مستقل طور پر بی بی سی اردو سروس میں ملازمت کر کے لندن میں ہی سکونت اختیار کرلی
بیرونی ممالک میں انہوں نے ریڈیو ہالینڈ کے علاوہ تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں ماہرِ نشریات و لسانیات کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور اسی دوران جاپان کی وزارت خارجہ میں زیر تربیت سفارتکاروں کو اردو سکھانے کا کام بھی کیا اور گزشتہ کئی برس سے بی بی سی کی اردو سروس میں ہیں.
صفدر ھمٰدانی نے پہلا شعر 13 سال کی عمر میں کہا تھا اورانکی غزلوں کا پہلا مجموعہ’’کفن پہ تحریریں‘‘ 74 میں لاہور سے شائع ہوا تھا جس کے بعد میں+ تم،پیاسے لفظ اور متعدد نثری تخلیقات شائع ہوئیں
مراثی کا پہلا مجموعہ’سرمایہ حیات‘ 1992 میں جاپان سے اور دوسرا ’ فرات کے آنسو‘ 2003 میں کراچی سے شائع ہوا . اور2007 میں انکے مرثیوں کے دو مجموعے عطائے رضا اور زینت ہستی شائع ہوئے .مراثی کا تیسرا مجموعہ’’رو رہا ہے آسماں‘‘ زیر ترتیب ہے.
جولائی 2006میں انکا پہلا سفر نامہ ایران کے حوالے سے منظر عام پر آیا۔ ایران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا۔
مارچ2004 میں انکی رباعیات اور قطعات کا مجموعہ’’معجزئہ قلم‘‘ برسلز سے اور جولائی 2004 میں انکی تالیف’کلیات حسن‘ لاہور سے شائع ہوئی ہے اور اب لگ بھگ چار کتابیں زیر ترتیب ہیں .انکی نثری اور شعری تصانیف کی مکمل فہرست انکی ویب سائٹ میں موجود ہے
انہوں نے لاہور میں مساوات اور امروز کے علاوہ جنگ لندن میں بھی مختلف موضوعات پر کالم نگاری کی اور آج کل القمر آن لائن پر نومبر 2003سے مسلسل کالم لکھ رہے ہیں.
وہ اسوقت انٹرنیٹ کی دنیا کی اردو کی بڑی ویب سائٹوں میں سے ایک موقر ویب سائٹ القمرآن لائن اور انگریزی ویب اخبار ڈیلی ون ورلڈ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
غزل گوئی سے اُنکی توجہ ہٹی نہیں لیکن مرثیہ نگاری اور مرثیے پر تحقیقی مضامین لکھنے کی وجہ سے غزل گوئی میں کمی ہوئی ہے.
مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی،فرانس،ناروے،ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا)شام ،کینڈا “وینکور”اور آسٹریلیاکے مختلف شہروں کا سفر کر چکے ہیں
.انکی غزلوں میں بھی کربلا کا استعارہ تواتر سے موجود ہے جبکہ عزائی شاعری میں عہدِ حاضر کی کربلا اور یزیدانِ عصرِ حاضر کا ذکر انکی ایک انفرادیت ہے. انکی ایک رباعی دنیا بھر کے اکثر ممالک میں نہایت مقبول ہے.
وجد میں جب بھی کوئی اسمِ جلی لکھتا ہوں
پھول حسنین کو زہرا کو کلی لکھتا ہوں
عشق نے انکے بنا دی ہے یہ حالت میری
لکھنے بیٹھوں جو محمد تو علی لکھتا ہوں
یا پھر انکے تازہ ترین غیر مطبوعہ مرثیے’ فکر سے دور بہت دور مسلمان ہے آج‘ کا یہ بند
ہو گئی صدیوں کی تاریخ و ثقافت برباد
قوم کی قوم ہوئی قید بنامِ آزاد
امن کے داعی نے خود پیدا کیا سارا فساد
جو بھی کچھ کہئے مگر آج ہے غالب الحاد
فکر سے دوری کا انجام ہے بغداد کی موت
تلخیء گردشِ ایام ہے بغداد کی موت
ابھی حال ہی میں مکتب عباس لندن کے اصغر کرمانی اور سید اکمل حسین نے انکی مرثیوں کی کئی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بھی تیار کی ہیں۔ |